اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اتوار کے روز جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ ان برسوں کے دوران عراق پر امریکہ کا قبضہ رہا ہے- اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں اس مالی بدعنوانی کے بارے میں اندرونی اور عالمی سطح پر تحقیقات کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے- دریں اثنا عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے ملادینف کا کہنا ہے کہ عراق پر بیرونی قبضے کے دوران ہونے والے مالی کرپشن اور عراقی سرمایہ کی لوٹ مار، اس ملک کی تعمیر کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ کا باعث بنی ہے- اقوام متحدہ کی جانب سے عراق میں اس کرپشن کا ایسی حالت میں اعلان کیا گيا ہے کہ بغداد میں نو اپریل کو بدعنوانی کے خلاف مہم سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس، منعقد ہورہی ہے- عراق پر امریکی قبضے کے دوران اس ملک کے پینسٹھ ارب ڈالر کی چوری کے واقعے کا، ایسی حالت میں اعلان کیا گيا ہے کہ ان برسوں کے دوران عراقی شخصیات نے امریکی حکمران پال برمر پر، بارہا تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ عراق پر امریکی قبضے کا مقصد، صدام حکومت کا تختہ پلٹنا نہیں بلکہ عراق کے تیل اور اس کے مالی ذرائع کی لوٹ مار کرنا ہے- عراقی حکام کا کہنا ہے کہ پال برمر کے دور میں عراق کی ترقیاتی فنڈ میں خاصا گھپلا کیا گيا ہے- عراق پر امریکی قبضے کے بعد کی رپورٹوں کے مطابق عراق کی ترقی کیلئے زرمبادلہ کا فنڈ، بیس ارب ڈالر تھا مگر اس کا کوئی ریکارڈ نہیں کہ یہ رقم، کہاں خرچ کی گئی- عراق پر امریکی قـبصے کے دوران ہونے والی لوٹ مار میں سوئیٹزر لینڈ کے بینکوں میں موجود، دسیوں ارب ڈالر مالیت کا سونا اور اس ملک کی نوادرات بھی شامل ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲